ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کافی بحث کے بعد اور کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے والک آوٹ کے درمیان لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل منظور

کافی بحث کے بعد اور کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے والک آوٹ کے درمیان لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل منظور

Thu, 27 Dec 2018 19:33:44    S.O. News Service

نئی دہلی 27/ڈسمبر (ایس او نیوز) حزب مخالف پارٹیوں کی سخت مخالفت اور کانگریس ، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے  سمیت کئی دیگر پارٹیوں  کے والک آوٹ کے  بعد لمبے عرصے سے اٹکا طلاق ثلاثہ بل آج لوک سبھا میں منظور کردیا گیا۔

تین طلاق بل پر لوک سبھا میں دو خواتین ارکان میں  وار اور پلٹ وار ہوا، کانگریس کی سشمیتا دیو نے کہا کہ مودی سرکار منہ میں رام بغل میں چھُری کی راہ پر ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ گجرات کی ایسی ہندو خاتون جسے شوہر نے چھوڑدیا ہے، اُس کے لئے قانونی وزیر کیا کرنے والے ہیں ۔ سشمتا نے تین طلاق کو جرم قرار دینے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  بل سے مسلم خواتین کو  تحفظ تو فراہم نہیں ہو گا،البتہ یہ بل   مرد حضرات کو   سزا ضرور دلائے گا۔

کانگریس کی ہی رنجیت رنجن نے کہا کہ قران میں طلاق کے لئے بہترین طریقے بتائے گئے ہیں، اسلام میں خواتین کو بھی  برابر کے مساوات دئے گئے ہیں، لہٰذا انہوں نے اس قانون کی مخالفت کی، AIADMK کے انور راجا نے کہا کہ  ملک میں تعلیم اور پچھڑے پن کی وجوہات جاننے کے لئے  تمام  سروے کئے گئے ہیں، لیکن کسی بھی سروے میں ٹریپل طلاق کو مسلم سماج کے پچھڑنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے، اس لئے اس بِل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کانگریسی لیڈر ملیکا ارجن کھرگے نے کہا کہ سرکار کو مذہبی اُمور میں مداخلت نہیں  کرنا چاہئے،بحث کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خواتین کے نام پر لایا جا رہا یہ بل سماج کو جوڑنے والا نہیں بلکہ سماج کو توڑنے والا بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بِل  اسلام کے خلاف تو ہے ہی مساوی حقوق کے بھی خلاف ہے۔کھڑگے نے کہا کہ بل مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور آئینی اقدار کے خلاف کوئی حکومت قانون سازی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کے ہم بھی حامی ہیں لیکن کسی بھی قانون میں طلاق دینے پر شوہر کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے ٹریپل  طلاق بل کو جوائنٹ سلیکشن کمیٹی کے  حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔آخر میں جب سخت مخالفت کے باوجود بھی وزیر قانون روی شنکر پرساد اپنی ہی بات پر اڑے رہے اور قانون بنانے پربضد رہے  تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آپ کا بھاشن سننے کے لئے نہیں آئے ہیں، اگر ہماری بات آپ کو نہیں ماننی ہے تو پھر ہم والک آوٹ کریں گے، یہ کہہ کر کانگریس سمیت دیگر حمایتی پارٹیوں کے کارکنان باہر چلے گئے۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ہمیشہ کی طرف اس بار بھی زبردست دلیلیں پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے اسلامی شریعت پر مداخلت کرنے والے طلاق ثلاثہ بِل کی سخت مخالفت کی اور اس بِل کو نامنظور کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بل کو  ہندوستان کی آئین  کی مختلف دفعات کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ ملک کی سو فیصد مسلمان اس بِل کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر  سوال اُٹھایا کہ  ایک ہندو میں کسی کو طلاق دینے پر ایک سال کی سزا دی جاتی ہے ، مگر مسلمانوں کو تین طلاق کہنے پر تین سال کی سزا کیوں ؟  انہوں نے سوال کیا کہ  کیا یہ آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ اویسی نے پارلیمنٹ میں قران کا بار بار تذکرہ آنے اور قرانی آیات کا مطلب  سمجھانے پر تمام ارکان پارلیمان کو  ختم نبوت کا اقرار کرنے کی دعوت دی۔  اویسی نے ایسی کئی مزید تاویلات پیش کرتے  ہوئے سوال کیا کہ مسلم مرد کو ٹریپل طلاق دینے پر تین سال کی سزا کیوں دی جانی چاہئے ؟ انہوں نے وزیر قانون کو گھیرے میں لیتے ہوئے سوال کیا کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کی کس لائن میں یہ کہا گیا ہے کہ تین طلاق غیر قانونی ہے ؟ انہوں نے می ٹو کے تعلق سے بھی  مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ جو  وزیر می ٹو کے گھیرے میں آئے تھے یہی حکومت اُس وزیر کو پناہ فراہم کرتی ہے تو  پھر آپ کی حکومت کس  بنیاد پر مسلمانوں کو آئینہ دکھارہی ہے ؟ اسدالدین اویسی نے اس بات پر اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ ہم  مسلمان آپ کے دبائو، آپ کے ظلم اور آپ کے قانون سے اپنے مذہب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم مسلمان بن کر اپنے شریعت پر ہی عمل کریں گے اور شریعت کے قانون پر ہی چلتے رہیں گے۔

 سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے اپنا موقف رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلم خوتین کے نام پر گھڑیالی آنسو بہا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو مسلم خواتین کو انصاف دلانے سے کوئی مطلب نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعہ وہ مسلم مردوں کو دوئم درجے کا شہری بنانے کی سازش کر رہی ہے۔

رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے مزید کہا، ’’حکومت کا کہنا ہے کہ بل کو ترمیم کے بعد لوک سبھا میں پیش کیا گیا ہے لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بل میں جو مجرامانہ التزامات موجود تھے انہیں نہیں ہٹایا گیا ہے۔‘‘ محمد سلیم نے کہا کہ بل میں بہت ساری کمیاں ہیں، لہذا اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔

آر ایس پی رکن پارلیمنٹ این کے پریم چندرن نے بل پر اپنا موقف رکھتے ہوئے بل کی کئی دفعات پر سوالات کھڑے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بل کے مطابق تین طلاق دینے پر شوہر کے لئے جیل کا التزام ہے، اگر طلاق دینے پر شوہر جیل چلا جائے گا تو پھر متاثرہ خاتون کو معاوضہ کیسے ملے گا۔ اور اُس کو کون  معاوضہ کون دے گا، جس کا بل میں التزام کیا گیا ہے۔‘

اپوزیشن کی سخت مخالفت کے باوجود بی جے پی نے طلاق ثلاثہ بل کو اپنی اکثریت کی بنیاد پر منظور کروالیا۔


Share: